Heer

باب السلام سے داخل ہوا اور بیت اللہ پر نگاہ پڑتے ہی زبان پر تکبیر جاری ہو گئی۔ جلال و ہیبت اور جبروت و ابہت کا سامنا ہے۔ ایک عالمِ گو مگو اور کیفیتِ بےنام جو طاری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یا اللہ میں کہاں آ گیا! یہ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا! مجھ سا پلید اور حرمِ مقدس میں! مجھ سا خطاکار، گنہگار اور معاصی سرشت اس مقام پر جہاں ہر زمانہ کے اتقیاء صلحاء، پاک بازوں اور نیکو کاروں نے سجدے اور طواف کئے، یہ پیروں نہیں سر کے بل چلنے کا مقام ہے۔ یہاں کا جتنا بھی احترام کیا جائے تھوڑا ہے۔ یہاں مجھ جیسے نابکار کی حاضری ایک معجزہ سے کم نہیں اور اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا ہے تو نصیب اسی طرح جاگا کرتے ہیں اور حقیر ذروں کو درخشانی اور ذلیل و خار و خش کو رعنائی دی جاتی ہے۔ اللہ جب دینے پر آئے تو اسے کون روک سکتا ہے۔ اس کے جود و عطاء ہم دنیا والوں کے قانون اور ضابطے کے پابند نہیں"

ماہر القادری، کاروانِ حجاز
0 Responses

Post a Comment