Heer

۔۔۔ بعض ايسے لوگ بھی مسلمانوں ميں پائے جاتے ہیں جو نہ عربي زبان وادب ميں خاطر خواہ استعداد رکھتے ہیں ، نہ عرب كے قديم علمى سرمايہ پر ان کی نگاہ ہے ، نہ قرآن كريم كو ٹھیک طور پر سمجھ سکتے ہیں مگر اپنی اس علمى تہی مائيگی کے باوجود قرآن كريم كے ترجمہ اور تفسير كى كوشش فرماتے ہیں ۔

ڈاکٹر صاحب ( اقبال ) كو اس قسم كى باتوں سے بڑی اذيت ہوتی تھی ، وہ اپنی متانت ، سنجيدگی اور عالى ظرفي كے باوجود اس غم كوچھپا نہ سکے ، ايك بار فرما ہی دیا : ۔۔۔ قرآن كريم اس اعتبار سے بڑا ہی مظلوم صحيفہ ہےكہ جسے ذنيا ميں اور كوئى كام نہیں ملتا وہ اس كے ترجمہ وتفسير ميں مصروف ہو جاتا ہے حالاں کہ یہ نہایت ہی نازك اور محتاط ذمہ دارى ہے ۔

__________ اقتباس از : روز گارِ فقير ، تاليف: فقير سيد وحيد الدين ___

0 Responses

Post a Comment