Heer

کسی نے پوچھا یہ احسان عظیم کیا ہے برملا دل میں آیا وہ احسان جسے احسان نہ سمجھا جائے بلکہ اپنا فرض اور اپنے رب کا حکم سمجھ کر انسان کی بھلائی کے لئے وقت پڑنے پر ایسے کیا جائے کی جس پر کیا جائے اسے احساس نہ ہو کہ اس پر احسان کیا گیا ہے کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے کسی کے لئے کچھ نہیں کرتا بلکہ اللہ اسے توفیق و اختیار عنایت فرماتا ہے تو ہی وہ کچھ کر پاتا ہے وہی بات کہ

سب کا داتا اللہ ہے
کس کا اپنا پلہ ہے

ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اﷲ کی عنایت ہے جسے اللہ کے حکم کے مطابق استعمال کرنا ہی رب کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا صحیح حق ادا کرنا ہے اور اگر ہم ایسا نہیں کر پاتے تو ہم ناشکرے کہلائیں گے اور یہ سمجھنا کہ ہم نے کسی کے مشکل وقت میں کسی کا ساتھ دیا ہے تو ہم نے کسی پر احسان کر دیا بلکہ اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم ایک دوسرے کے کام آ سکتے ہیں اور اس کام کو بھول جائیں جو ہم نے کیا ہے اس کا اشتہار یا نمائش نہ لگائیں ورنہ یہ احسان نہیں ظلم ہوگا اگر کسی کی دل آزاری کا باعث بنا تو لہذا جو بھی کریں رب کا حکم اور رب کا احسان سمجھ کر کریں اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق عنایت فرمائے آمین

0 Responses

Post a Comment