Heer
جب ہم اپنے چاروں جانب دیکھتے ہیں تو ہر چیز کا ہر بات کا اچھی طرح سے مشاہدہ کرنے کہ بعد ہر شے کے ہر واقعہ کے حقائق اور اسکے اچھے برے تنائج سے متعلق ضروری معلومات سے آگاہی کا حصول صاف دکھائی دیتا ہے اور جب انسان کسی چیز کی حقیقت کو پالے تو مستقبل کی بہتری کے لئے مناسب لائحہ عمل تشکیل دینا کچھ مشکل نہیں رہتا آج کے دور میں بڑے تو کیا بچے بھی بہت سے حقائق سے آگاہی رکھتے ہیں اور اپنی دانست کے مطابق اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں جب ہم علم و شعور کی دولت سے مالا مال ہیں تو پھر وہ کونسی رکاوٹ ہے جو ہمیں کامیابی اور ترقی کی منزل سے اب تک دور رکھے ہوئے ہے جبکہ ہمارے ملک میں نہ سرمایہ کی کمی ہے نہ افرادی قوت و صلاحیت کی کیا قومی سرمائے کی تقسیم کا عمل ناقص ہے یا افرادی قوت سے کام لینے کا ڈھنگ نہیں ہے جس سرزمین کو قدرت نے ہر قسم کی قدرتی نعمتوں سے نوازہ ہو وہاں ترقی کی رفتار اس قدر سست ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ہمیں اپنے رویوں پر اپنے اعمال ہر اپنی صلاحیتوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور سوچنا ہوگا کہ ہم قدرت کی عطا کردہ عنایات کو کیسے سب کے لئے قابل استعمال بنا سکتے ہیں اور کیسے اپنے لوگوں اپنے ملک اور عالمی برادری کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اسکا سب سے آسان اور مستند طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کی بھلائی کے لئے جو کتاب مقدس یعنی قرآن مجید جو کہ نسخئہء کیمیا کی صورت میں عطا کیا ہے اس کی حکمتوں کو عملی طور پر اپنا لیں صرف جھوم جھوم کر تلاوت کی اور رکھ دیا یہ جانے بغیر یہ سمجھے بغیر کی اس کتاب کی رو سے ہمیں اپنی صلاحیتوں سے کس طرح فیض حاصل کرنا ہے یاد رکھیں جس دن سے ہم نے صحیح معنوں میں کلام پاک کی تعلیمات پر عمل شروع کردیا ہماری کایا ہی پلٹ جائے گی ایک بار سوچیں تو صحیح چاہیں تو صحیح اور اس راستے کی سمت قدم بڑھائیں تو صحیح آپ خود دیکھیں گے کہ ہم کامیاب تھے ہم کامیاب ہیں اور ہمیشہ کامیاب رہیں گے انشاءاللہ العزیز
0 Responses

Post a Comment